انبیاء کرام

کیا انبیاء کرام علیہم السلام پر زکوٰۃ فرض ہے؟

مختصر جواب
نہیں — زکوٰۃ مَیل کچیل دُور کرتی ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام میل کچیل سے منزہ ہوتے ہیں اس لئے اُن پر زکوٰۃ فرض نہیں۔
حوالہ 1
لقمان، آیت 4
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ
ترجمہ
وہ جو نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور آخرت پر یقین لائیں۔
— ترجمہ کنزالایمان
تفسیر

انبیاء کرام علیہم السلام پر زکوۃ کا فرض نہ ہونا دلائل کے ساتھ

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی 1252ھ لکھتے ہیں :

انبیاء (علیہم السلام) پر زکوٰۃ اس لیے فرض نہیں ہے کہ زکوٰۃ میل کچیل سے پاک کرتی ہے اور انبیاء میل کچیل سے منزہ ہوتے ہیں ، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا :

میں جب تک زندہ ہوں اللہ نے مجھے نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کی وصیت کی ہے۔ (مریم : 31)

اس سے مراد نفس کی پاکیزگی ہے یعنی میں اپنے نفس کو ان رذائل سے پاک رکھوں جو انبیاء کرام کے مقام کے نا مناسب ہیں ،یا مجھے زکوٰۃ کے احکام کی تبلیغ اور پہنچانے کی وصیت کی ہے ، اور اس سے زکوٰۃ فطر مراد نہیں ہے ،کیونکہ زکوٰة کی عدم فرضیت انبیاء (علیہم السلام) کی خصوصیات میں سے ہے اور اس خصوصیت کے اعتبار سے زکوٰۃ مال اور زکوٰۃ بدن میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (ردالمحتار ،ج 3، ص 160، داراحياء التراث العربی بیروت )

— تبیان القرآن،ج9،ص216،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں