وسیلہ

سورہ فاتحہ میں عبادت کو استعانت(مدد)پر مقدم کیوں کیا؟

مختصر جواب
اس لئے کہ معلوم ہو جائے کہ طلب کے لئے تقدیم وسیلہ سے اجابت جلد تر ممکن ہوتی ہے۔
حوالہ 1
الفاتحہ
اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ
ترجمہ
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ۔
— کنز العرفان
تفسیر

اس آیت میں افتخار و افتقارکو یکجا جمع کیا گیا ہے۔ فخر تو اس طرح کہ ایاک نعبد پڑھنے سے بندہ کو خیال گزرے گا کہ میں عبد بھی ہوں عابد بھی اور افتقاریوں کہ اقرار کرنا پڑا کہ یہ عبادت مجھے اللہ تعالیٰ کی امداد توفیق سے نصیب ہوئی۔ مسئلہ :۔ اس آیت سے اہل سنت کے مذہب کی تائید ہو گئی کہ فعل کا کسب بندہ سے ہے اور اس کی توفیق اللہ جل جلالہ سے ہے جیسا کہ کسب بندہ سے اور فعل کا پیدا کرنا اللہ تعالی ٰسے ہے اور اياك نعبد سے جبریہ کا رد بھی ہے جو کہ بندہ ہے کسی فعل کے صدور کے قائل نہیں ہیں اور ایاک نستعین میں معتزلہ کا رد بھی ہے کہ وہ توفیق و خلق من اللہ کے قائل نہیں ہیں۔ پس حق عبادت و استعانت کا یہ ہے کہ سوائے اس مالک لم یزل کی بارگاہ کے کسی کے آگے نہ سر جھکائے نہ کسی کو مستقل مستعان سمجھے۔ حکایت: حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے جب آپ نے ایاک نستعین پڑھا تو بے ہوش ہو کر گر پڑے جب ہوش میں آئے تو سبب پوچھا گیا ، آپ نے فرمایا کہ جب میں نے اياك نستعين پڑھا تو مجھے ڈر ہوا کہ میں اس وقت کیا جواب دوں گا جب مجھے کہا جائے گا کہ ایاک نستعین پڑھتا تھا تو پھر اطباء وسلاطین کے دروازہ کو کیوں کھٹکھٹایا تھا ! حکایت و فائدہ : استعانت کو مخصوص باللہ کرنے میں حضرت سید نا خلیل علی نبینا وعلیہ السلام کی اقتداء ہے جبکہ وہ نمرود لعین کی قید میں تھے تو اس وقت ان کی خدمت میں سیدنا جبریل علیہ السلام حاضر ہو کر کہنے لگے! کیا تجھے کوئی حاجت ہے؟ آپ نے فرما یا حسبی من سوالی علمه بحالی یہاں عبد عرض کرتا ہے الٰہی! میں اس وقت تیرے خلیل علیہ السلام سے عاجزی میں کچھ کم نہیں ہوں کہ تیرے خلیل علیہ السلام کے صرف دونوں ہاتھوں و پاؤں کو باندھا گیا اور میں سب کا سب باندھا ہوا ہوں کہ نہ پاؤں سے چلتا ہوں اور نہ ہاتھوں سے حرکت کرتا ہوں اور نہ آنکھوں سے دیکھتا ہوں اور نہ کانوں سے سنتا ہوں اور نہ زبان سے بولتا ہوں باوجود اس کے نار جہنم کے کنارے پر ہوں ۔ پس جیسا حضرت خلیل علیہ السلام سے تجھ پر کچھ کم نہیں عطا فرما تا چنانچہ ان کے لئے فرمایا تھا قُلْنَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَما عَلَى إِبْرَاهِيمَ اور تجھ کوتو نار جہنم سے نجات دے کر بہشت کے باغات بخشے ۔ بلکہ کلام قدیم کے سننے کی تجھے توفیق بخشی اور نار جہنم کو تیرے لیے مامور فرمایا کہ جب اس کے قریب تیرا گذر ہوگا تو تجھے عرض کرے گی : اے مرد مؤمن !مجھ سے جلد گذر جا کیونکہ تیرے نور نے میرے شعلوں کو سرد فرما دیا۔ سیدی مولانا جلال الدین رومی قدس سرہ فرماتے ہیں: آتش عشق از یں روائے صفی می شود و و زخ ضعیف و منطقی

گویدش بگور سبک اے محتشم ورنہ ز آتش ہائے تو مرد آتشم ترجمہ : ایسے نیک بخت سے دوزخ بھی کمزور ہو کر بجھ جائے گی اور عرض کرے گی یا حضرت! جلد گذر فرمائیے ورنہ آپ کے عشق کے شعلوں سے میری گرمی مٹ جائے گی۔ (تفسیر روح البیان،ج1،ص۶۱)

— (تفسیر روح البیان،ج1،ص61)

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • اچھے اعمال اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہیں تو بُرے اعمال کس کی طرف سے ہیں؟
    phrasing
  • جب حقیقی مددگار اللہ تعالیٰ ہے تو ہم کسی اور سے کسی بھی کام کےلئے مدد کیوں مانگتے ہیں؟
    phrasing
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں