کیا حضور نبی کریم ﷺ وصال کے بعد بھی اپنی امت کے اعمال پر مطلع ہیں؟
وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امت کے اعمال پر مطلع ہونا: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر امت کے اعمال پیش کئے گئے اچھے اور برے،میں نے اچھے اعمال میں راستہ سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا پایا اور برے اعمال میں یہ پایا کہ بلغم کو مسجد میں ڈال کر دفن نہ کیا جائے ۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : 553،سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث: 3683) اس حدیث میں حیات یا ممات کی قید نہیں ہے اس لیے اس حدیث کے عموم الفاظ سے استدلال ہے۔ بکر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری حیات بھی تمہارے لیے بہتر ہے تم حدیث بیان کرتے ہو اور تمہارے لیے حدیث بیان کی جاتی ہے اور جب میں فوت ہو جاؤں گا تو میری وفات بھی تمہارے لیے بہتر ہوگی اس لیے بہتر ہوگی کہ تمہارے اعمال مجھ پر پیش کئے جائیں گے جب میں نیک اعمال دیکھوں گا تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں گا اور جب میں برے اعمال دیکھوں گا تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کروں گا۔ اس حدیث کے رجال صحیح ہیں۔(مجمع الزوائد ،ج 9، ص 24) (الطبقات الکبریٰ ج ۲ ص ۱۵۰-۱۴۹ طبع جدید الوفا رقم الحدیث: ۱۵۶۴ طبع جدید البدایہ والنہایہ ج ۲ ص ۲۵۷، طبع جدید المطالب العالیہ رقم الحدیث: ۳۸۵۳، جمع الجوامع رقم الحدیث: ۱۱۳۳۷ الجامع الصغير رقم الحدیث: ۳۷۷۱ مندالیز ار رقم الحدیث: ۸۴۵ کنز العمال رقم الحدیث: ) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری زندگی بھی تمہارے لیے بہتر ہے مجھ پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ تمہارے لیے کیا چیز حلال ہے اور تم پر کیا چیز حرام ہے اور میری وفات بھی تمہارے لیے بہتر ہے ہر جمعہ کی رات کو تمہارے اعمال مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں جو اچھے اعمال ہوتے ہیں میں ان پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور جو گناہ ہوتے ہیں تو میں اللہ سے تمہارے گناہوں کی مغفرت طلب کرتا ہوں۔ ( الوفا،رقم الحدیث: 1565) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ زمین میں اللہ کے فرشتے ہیں جو سیر کرتے ہیں اور وہ میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔ (مسند احمد رقم الحدیث: ۳۲۰۹ عالم الكتب مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۵۱۷ سنن الدارمی رقم الحدیث: ۲۷۷۷، مسند ابو یعلی رقم الحدیث: ۵۲۱۳ سنن النسائی رقم الحديث : ۱۳۳۱ الترغيب والترهيب رقم الحدیث : )) حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ایام میں افضل دن جمعہ کا ہے اس میں آدم پیدا کئے گئے اسی دن ان کی روح قبض کی گئی اسی دن میں صور پھونکا جائے گا اور اسی دن میں لوگ بے ہوش کئے جائیں گے تم اس دن میں مجھ پر بہ کثرت صلوٰۃ پڑھا کرو کیونکہ تمہاری صلاۃ ( درود ) مجھ پر پیش کی جاتی ہے صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! آپ پر ہماری صلاۃ کیسے پیش کی جائے گی حالانکہ آپ کی ہڈیاں بوسیدہ ہو چکی ہوں گی آپ نے فرمایا اللہ نے انبیاء کے اجسام کو زمین پر حرام کر دیا ہے۔ (اس حدیث کی سند صحیح ہے ) ((سنن ابوداؤ در تم الحدیث: ۱۰۴۷ سنن ابن ماجه رقم الحدیث : ۱۲۳۶ - ۱۰۸۵ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۵۱۶ مسند احمد ج ۲ ص ۸ رقم الحدیث : ١۶٣٧٢ عالم الكتب سفن الا ن الدارى رقم الحديث : ۱۵۸۰ سفن النسائی رقم الحدیث صحیح ۱۳۷۳ ابن خزیمہ رقم الحدیث : ۱۷۳۴ ۱۷۳۳- صحیح ابن حبان رقم الحديث : ۱۹۱۰ انجم لمعجم الكبير رقم الحديث : : ۵۸۹ المستدرک ج ا ص ۲۷۸ قدیم المستدرک رقم الحدیث : ۳۶۳۰، سنن کبری للبیہقی ج ۳ ص ۳۴۸ شعب الایمان ج ۳ ص ) حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مجھ پر کثرت کے ساتھ درود پڑھا کرو کیونکہ اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور جو بندہ بھی مجھ پر درود پڑھتا ۔ پڑھتا ہے اس کی آواز مجھ تک پہنچتی ہے خواہ وہ کہیں بھی ہو ہم نے عرض کیا آپ کی وفات کے بعد بھی؟ آپ نے فرمایا میری وفات کے بعد بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے جسم کھانے کو زمین پر حرام کر دیا ہے ۔ ( جلاء الافہام رقم الحدیث: ۱۰ ص۶۴، مطبوعہ دار الكتاب العربی ۱۴۱۷ھ ) ان تمام احادیث میں یہ تصریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دیگر اعمال اور درود شریف کو پہنچایا جاتا ہے اور بعض احادیث میں یہ تصریح ہے کہ آپ خود درود شریف کو سنتے ہیں اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب آپ قبر میں زندہ ہوں اس سے معلوم ہوا کہ وفات کے بعد پھر آپ کو حیات عطا کر دی گئی ۔ (تبیان القرآن،ج7،ص582،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)
اس سوال کے دیگر الفاظ
- کیا حضور اکرم ﷺ کو امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں؟phrasing
- کیا نبی کریم ﷺ اپنی امت کے نیک و بد اعمال کو ملاحظہ فرماتے ہیں؟phrasing