رسول اللہ ﷺکی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا کیا ہے؟
رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لیے شرعی حکم کی تحقیق: رسول اللہ ﷺ کی توہین کرنا بالا جماع کفر ہے اور توہین کرنے والا بالاتفاق واجب القتل ہے اور اس کی توبہ قبول کرنے میں ائمہ مذاہب کے مختلف قول ہیں خواہ توہین کا تعلق آپ کی ذات کے ساتھ ہو یا آپ کے نسب کے ساتھ ہو۔ آپ کے دین کے ساتھ ہو یا آپ کی کسی صفت کے ساتھ ہو اور یہ اہانت خواہ صراحتاً ہو یا کنایتاً ہو یا تعریضا ًہو یا تلویحاً ہو۔ اسی طرح کوئی شخص آپ کو بد دعا کرے، آپ پر لعنت کرے یا آپ کا بُرا چاہے ،آپ کے عوارض بشریہ یا آپ کے متعلق اشیاء یا اشخاص کا آپ کی طرف نسبت کرتے ہوئے بطریق طعن یا مذمت ذکر کرے۔ غرض جس شخص سے کوئی ایسا کام صادر ہو جس سے آپ کی اہانت ظاہر ہو وہ کفر ہے اور اس کا قائل واجب القتل ہے۔ قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں: محمد بن سحنون نے کہا ہے: علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی کریمﷺکی اہانت کرنے والا اور آپ کی تنقیص ( آپ کی شان میں کمی )کرنے والا کافر ہے اور اس پر عذاب الہٰی کی وعید جاری ہے اور امت کے نزدیک اس کا حکم قتل کرنا ہے، اور جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ (الشفاء ج 2، ص 190، مطبوعہ عبد التواب اکیڈمی ،ملتان) بعض فقہاء حنیفہ کا قول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺکو گالی دینے والے کی توبہ قبول نہیں ہوگی ۔ علامہ علائی لکھتے ہیں: جو شخص کسی نبی کو گالی دینے سے کافر ہو گیا ہو اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ مطلقاً قبول نہیں ہے خواہ وہ خودتو بہ کرے یا اس کی تو بہ پر گواہی ہو) اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی کیونکہ وہ اللہ تعالی کا حق ہے اور نبی کو گالی دینا بندے کا حق ہے اور جو شخص اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا۔ در مختار علی الرد،ج 3، ص 440، مطبع عثمانیہ ،استنبول)) علامہ ابن قدامہ ؒحنبلی لکھتے ہیں: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی وہ کافر ہو گیا ،خواہ مذاق سے خواہ سنجیدگی سے اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ سے استہزاء کیا یا اس کی ذات سے یا اُ س کے رسولوں سے یا اس کی کتابوں سے وہ کافر ہوگیا۔(المغنی،ج9،ص33، مطبوعہ دار الفکر بیروت) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِه وَ رَسُوْلِه كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ (التوبہ،65) ترجمہ کنز العرفان: اور اے محبوب! اگرآپ ان سے پوچھیں تو کہیں گے کہ ہم تو صرف ہنسی کھیل کررہے تھے ۔تم فرماؤ: کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی مذاق کرتے ہو۔ قاضی عیاض مالکیؒ لکھتے ہیں: جان لو کہ امام مالک ،اُن کے اصحاب ،سلف صالحین اور جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو جس نےگالی دی اور اس کے بعد توبہ کرلی تو اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا نہ بطور کفر ۔ شیخ ابو الحسن قاسمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا جب کسی شخص نے آپﷺ کو گالی دینے کا اقرار کیا اور اس کے بعد توبہ کرلی اور توبہ کا اظہار کر دیا تو اس کو گالی کے سبب سے قتل کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ اُس کی حد ہے۔ ابو محمد بن ابی زید نے بھی یہی کہا ہے البتہ اس کی تو بہ اُس کو آخرت میں نفع دے گی اور وہ عنداللہ مومن قرار پائے گا۔(الشفاء ،ج 2، ص 222، مطبوعہ ملتان) علامہ شامی ؒلکھتے ہیں: جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی ہو اس کی توبہ قبول نہ کرنا امام مالک کا مشہور مذہب ہے، اور امام احمد بن حنبل کا مشہور مذہب بھی یہی ہے۔ فقہاء اسلام کی عبارات کا تقاضا یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کرنے والا مرتد ہے اور واجب القتل ہے۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ مرتد وہ شخص ہو گا جو پہلے مسلمان ہو ،اگر کوئی غیر مسلم نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ سو اس کا حکم بھی یہ ہے کہ اس کو قتل کیا جائے گا۔ اور گستاخی کا معنی یہ ہے کہ سید نا محمد ﷺیا انبیاء سابقین میں سے کسی نبی علیہ السلام کے متعلق ایسا لفظ بولے یا ایسا لفظ لکھے جو عرف میں توہین کے لیے متعین ہو تو ایسے شخص کو قتل کر دیا جائے گا خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم۔ (انبیاء سابقین سے مراد وہ نبی ہیں، جن کی نبوت تمام سچے مذاہب میں مسلم ہو ۔) (تبیان القرآن،ج4،ص383،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)
اس سوال کے دیگر الفاظ
- کیا حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے بارے میں قرآن و حدیث میں وعید بیان ہوئی ہے؟phrasing
- کیا گستاخِ رسول ﷺ کے احکام کے بارے میں ائمۂ اربعہ اور فقہائے اسلام کی آراء کیا ہیں؟phrasing