کیا حضور نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے؟
امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہود،اَوس اور خزرج کے خلاف جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے آپ کے وسیلہ سے فتح طلب کرنے کی دعا کرتے تھے ،جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺکو عرب میں مبعوث کر دیا تو جو کچھ وہ آپ کے متعلق کہتے تھے اس کا انہوں نے انکار کر دیا ،ایک دن حضرت معاذ بن جبل اور حضرت بشر بن البراء بن معرور رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: اے یہودیو! اللہ سے ڈرو اور اسلام لے آؤ ،جب ہم مشرک تھے تو تم ہمارے خلاف سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے فتح کی دعا کرتے تھے ،تم ہم کو یہ خبر دیتے تھے کہ وہ نبی مبعوث ہونے والے ہیں اور تم اس نبی کی وہی صفات بیان کرتے تھے جو آپ میں موجود ہیں ،اس کے جواب میں بنو نضیر کے سلام بن مشکم نے کہا: وہ کوئی ایسی چیز لے کر نہیں آئے جس کو ہم پہچانتے ہوں اور یہ وہ نبی نہیں ہیں جن کا ہم تم سے ذکر کیا کرتے تھے۔ حافظ سیوطیؒ لکھتے ہیں: امام ابو نُعیم نے ''دلائل النبوة " میں حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بنو قریظہ اور بو نضیر کے یہود کفار کے خلاف جنگ میں اللہ تعالیٰ سے یوں فتح کی دعا کرتے تھے : اے اللہ !ہم نبی امی کے وسیلہ سے مجھ سے نصرت طلب کرتے ہیں ،تُو ہماری مددفرما، تو اُن کی مد دکی جاتی اور جب وہ نبی آگئے جن کو وہ پہچانتے تھے تو انہوں نے ان کا کفر کیا۔ امام ابو نعیم نے ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس کی روایت میں اس طرح دعا کا ذکر کیا ہے: اے اللہ ! اپنے اُس نبی کے وسیلہ سے ہماری مددفرما اور اُس کتاب کے وسیلہ سے جو تُو اُن پر نازل کرے گا ،تو نے وعدہ کیا کہ تو ان کو آخر زمانہ میں مبعوث فرمائے گا۔