کیا حضور نبی کریم ﷺکےعلم غیب کی وجہ سے لوگ مسلمان ہوجاتے تھے؟
بدر میں رسول اللہ ﷺ کے غیب کی خبر دینے سے متاثر ہو کر حضرت عباس کا مسلمان ہونا : امام احمد بن حنبل متوفی 241ھاپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں: امام محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ جس شخص نے عکرمہ سے سنا اس نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی کہ عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ جس شخص نے (جنگ بدر میں )عباس ؓبن عبد المطلب کو گرفتار کیا وہ ابو الیسر کعب بن عمروتھے۔ ان کا تعلق بنو سلمہ سے تھا۔ ان سے رسول اللہ ﷺنے پوچھا: اے ابو الیسر!تم نے اس کو کیسے گرفتار کیا تھا؟ انہوں نے کہا اس معاملہ میں ایک ایسے شخص نے میری مدد کی تھی جس کو میں نے اس سے پہلے دیکھا تھا نہ اس کے بعد ،اس کی ایسی ایسی ہیئت تھی۔ تب رسول اللہ ﷺنے فرمایا !تمہاری مدد ایک مکرم فرشتہ نے کی تھی۔ اور عباس سے فرمایا !اے عباس تم اپنا فدیہ بھی دو اور اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن الحارث کا فدیہ بھی دو اور اپنے حلیف عقبہ بن حجدم کا فدیہ بھی دو جن کا تعلق بنو الحارث بن فھرسے ہے۔ حضرت عباسؓ نے ان کا فدیہ دینے سے انکار کیا اور کہا میں اس غزوہ سے پہلے اسلام قبول کر چکا تھا۔ یہ لوگ مجھے زبردستی اپنے ساتھ لائے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے معاملہ کو خوب جاننے والا ہے اگر تمہارا دعویٰ برحق ہے تو اللہ تعالیٰ تم کو اس کی جزا دے گا۔ لیکن تمہارا ظاہر حال یہ ہے کہ تم ہم پر حملہ آور ہوئے ہو سو تم اپنا فدیہ ادا کرو۔ اور رسول اللہ ﷺاُس سے بیس اُوقیہ سونا (بہ طور مال غنیمت )وصول کر چکے تھے۔ عباس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ! اُس بیس اُوقیہ سونے کو میرےفدیہ میں کاٹ لیجئے۔ آپ ﷺنے فرمایا ،نہیں !یہ وہ مال ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں تم سے لے کر دیا ہے۔ عباس نے کہا میرے پاس اور مال تو نہیں ہے ، آپﷺ نے فرمایا وہ مال کہاں ہے جو تم نے مکہ سے روانگی کے وقت ام الفضل کے پاس رکھا تھا اس وقت تم دونوں کے پاس اور کوئی نہیں تھا۔ اور تم نے یہ کہا تھا کہ اگر میں اس مہم میں کام آگیا تو اس مال میں سے اتنا فضل کو دینا ،اتنا قثم کو دینا اور اتنا عبد اللہ کو دینا۔ تب عباس نے کہا !اُس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میرے اور ام الفضل کے سوا اس بات کو اور کوئی نہیں جانتا اور اب مجھے یقین ہو گیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔