غیر اللہ سے مدد

کیا ہم غیراللہ کو مدد کے لئے پکا ر سکتے ہیں؟

مختصر جواب
جی ہاں ،حقیقی طور پر ہر مشکل کو ٹالنا اور مصیبت کو دور کرنا صرف اللہ ہی کی قدرت ہے کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر مدد نہیں کرسکتا مگر اگر کسی شخص کو مدد کے لئے پکارا جائے تو اسے اللہ کا بندہ سمجھ کر پکارنا جائز ہے اورقرآن وحدیث میں کئی مقامات پر بندوں سے مدد لینے کا جواز ملتا ہے -
حوالہ 1
الانعام، آیت 56
قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ قُلْ لَّا اَتَّبِـعُ اَهْوَآءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَا اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ
ترجمہ
تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انہیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تم فرماؤ میں تمہاری خواہش پر نہیں چلتا یوں ہو تو میں بہک جاؤں اور راہ پر نہ رہوں۔
— ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر

اس آیت میں ''تدعون من دون اللہ '' فرمایا ہے اور دعا کا معنی ہے طلب نفع یا دفع ضرر کےلئے ندا کرنا،لیکن مشرکین اپنی مہمات اور مشکلات میں بطور عبادت ان بتوں کو ندا کرتے تھے۔ اس لیے یہاں دعاء کا معنی عبادت ہے ،کیونکہ وہ ان بتوں کی عبادت کرتے تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ یہ بت نفع پہنچانے اور ضرر دُور کرنے پر قادر ہیں۔ سو ان کا بتوں کو پکار نا در اصل ان کی عبادت کرنا تھا، اس لیے ہم نے یہاں دعا کا معنی پرستش اور عبادت کیا ہے اور حدیث میں بھی دعا کو عبادت فرمایا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے فرمایا دعا کرناہی عبادت ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَاِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ( تمہارارب فرماتا ہے! مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا بے شک جو لوگ میری عبادت کرنے سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلت سے جہنم میں داخل ہوں گے) (المومن: 60) انبیاء علیہم السلام اور صالحین کرام کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ اپنی مہمات، مشکلات اور تمام حاجات میں صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے اور اس سے استمداد اور استفادہ کرتے تھے۔ سو ہمیں بھی ان کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنا چاہیے اور اپنی ہر حاجت کا صرف اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا چاہیے اور اس سے مدد طلب کرنی چاہیے ۔ ہاں! انبیاء علیہم السلام اور صالحین عظام کا وسیلہ پیش کرنا ایک جُدا اَمر ہے۔ اس کے جواز اور استحسان میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے، اور جب مقربین بارگاہ صمدیت کے وسیلہ سے دعا کی جائے گی تو اس کا مقبول ہونا زیادہ متوقع ہوگا- (تبیان القرآن ،ج3،ص493) بعض مسلمان اپنی مشکلات اور مہمات میں یا علی مدد اور یا غوث الاعظم المدد کہتے ہیں ، افضل اور اَولیٰ تو یہی ہے کہ یا اللہ کہاجائے۔ اللہ تعالیٰ کو پکارا جائے اور اس سے مدد طلب کی جائے ، لیکن ان مسلمانوں کی اس ندا سے غرض یہ ہوتی ہے کہ یہ اولیاء کرام، اللہ تعالیٰ کی مدد کے مظہر ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اجازت سے تصرف کرتے ہیں اور لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس لیے اُن کی یہ ندا شرک نہیں ہے۔ اسی طرح بعض شعراء کی نعتوں اور منقبتوں میں بھی یا رسول اللہ اور یا غوث اعظم کے الفاظ ہوتے ہیں، یہ کلمات ذوق و شوق اور محبت سے کیے جاتے ہیں، یہ بھی شرک نہیں ہے ۔شرک اُس وقت ہو گا جب پکارنے والا اس اعتقاد سے پکارے کہ جس کو وہ پکار رہا ہے، وہ مستقل ہے اور از خود سنتا ہے اور اپنی ذاتی طاقت سے از خود مدد کرتا ہے، یا وہ اس کو مستحق عبادت سمجھتا ہو اور اس کو بطور عبادت ندا کرے جیسا کہ مشرکین اپنے بتوں کو ندا کرتے تھے۔ مشرکین کے بتوں کو پکارنے اور بعض مسلمانوں کا اولیاء اللہ کو پکارنے میں یہ بنیادی فرق ہے اس وجہ سے مشرکین کا بتوں کو پکارنا شرک ہے اور مسلمانوں کااولیاء اللہ کو پکارنا شرک نہیں ہے۔ مشرکین ان بتوں کی عبادت کرتے تھے ، اس کے برخلاف مسلمان اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتےہیں، اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں اور "لا الہ الا اللہ " پڑھتے ہیں اور ان کا یہ ظاہر حال اس پر قرینہ ہے کہ وہ اپنی مشکلات میں جس کو پکار رہے ہیں، اس کو خدا نہیں سمجھتے۔ بلکہ خدا کا مقرب بندہ اور ماذون فی التصرف سمجھتے ہیں۔ تاہم اپنی تمام حاجات اور تمام مشکلات میں صرف اللہ عزوجل کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور ہر چھوٹی اور بڑی چیز کا صرف اس سے سوال کرنا چاہیے اور صرف اسی سے مدد طلب کرنی چاہیے ۔ نبی کریم ﷺنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ نصیحت فرمائی تھی کہ جب تم سوال کروتو صرف اللہ سے سوال کرو اور جب تم مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد چاہو۔ امام ترمذی ؒنے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی، ج 3، رقم الحدیث: 2524)

— (سنن الترمذی، ج 5، رقم الحدیث: 3383) (تبیان القرآن ،ج3،ص493)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں