توحيد

کیا نبی پاک ﷺنُور ہیں؟

مختصر جواب
جی ہاں ،حضور اکرمﷺ کی ذات پاک نور بھی ہے اور بشر بھی ان دونوں میں سے کسی ایک کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس پر قرآن وحدیث سے بے شمار دلائل ملتے ہیں
حوالہ 1
المائدۃ، آیت 15
قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌ
ترجمہ
بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔
— ترجمہ کنز الایمان
تفسیر

علامہ ابن الحاجؒ روایت کرتے ہیں کہ: سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺکے نور کو پیدا کیا اور یہ نور اللہ عز و جل کے سامنے سجدہ کرتا رہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نور کے چار حصے کیے۔ پہلے حصہ سے عرش کو پیدا کیا، دوسرے حصہ سے قلم کو پیدا کیا اور تیسرے حصہ سے لوح کو پیدا کیا۔ پھر قلم سے فرمایا: چل لکھ! اس نے کہا اے میرے رب میں کیا لکھوں؟ فرمایا: میں قیامت تک جو کچھ پیدا کرنے والا ہوں، پھر قلم لَوح پر چلنے لگا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ لکھ دیا۔ پھر چوتھا حصہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے پھر اس نور کے چار حصے کیے۔ پہلے حصہ سے عقل کو پیدا کیا دوسرے حصہ سے معرفت کو پیدا کیا اور اس کو لوگوں کے دلوں میں رکھا اور تیسرے حصہ سے سورج اور چاند کے نور کو پیدا کیا اور آنکھوں کے نور کو پیدا کیا اور چوتھے حصہ کو اللہ تعالیٰ نے عرش کے گرد رکھا، حتی کہ حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا کیا تو یہ نور ان میں رکھا۔ پس عرش کانور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺکے نور سے ہے اور قلم کا نور سیدنا محمد رسول اللہﷺ کے نور سے ہے اور لَوح کا نور حضورﷺ کے نُور سے ہے اور دن کا نُور حضور ﷺکے نور سے ہے اور عقل کا نُور آپ ﷺکے نور سے ہے اور معرفت کا نور آپ ﷺکے نور سے ہے اور سورج چاند اور آنکھوں کا نور آپ کے نور سے ہے۔ (اس روایت کی عبارت ختم ہوئی) اس کے بعد علامہ ابن الحاج لکھتے ہیں: اس معنی میں بکثرت روایات ہیں۔ جو اُن پر مطلع ہونا چاہے وہ ابوالربیع کی کتاب ''الشفاء ''کا مطالعہ کرے۔ اسی وجہ سےحضرت آدم علیہ السلام نے ہمارے نبی ﷺسے کہا: اے وہ جو معناً میرے باپ ہیں اور صورتاً میرے بیٹے ہیں۔ اور امام ترمذی ؒنے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ کے لیے نبوت کب ثابت ہوئی؟ فرمایا: ابھی آدم روح اور جسد کے درمیان تھے۔ (المد خل ، ج 2، ص 30، مطبوعہ دار الفکر ،بیروت)

— (المد خل ، ج 2، ص 30، مطبوعہ دار الفکر ،بیروت)
حوالہ 2
آل عمران، آیت 164
قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ
ترجمہ
بیشک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا جب ان میں ایک رسول مَبعوث فرمایا جو انہی میں سے ہے ۔
— ترجمہ کنز العرفان
تفسیر

نبی ﷺ کے نور حسی ہونے کے متعلق علماء کے یہ نظریات ہیں، جن کو ہم نے اختصار کے ساتھ نقل کر دیا ہے۔ البتہ ظاہر قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی انسان اور بشر ہیں، لیکن آپﷺ انسان کامل اور افضل البشر ہیں۔ اور ہرنبی انسان اور بشر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺکو ہماری جنس سے مبعوث کیا ہے اور اُسی کو ہمارے لیے وجہ احسان قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یہ کتنی عجیب بات ہوگی کہ اللہ تعالیٰ تو یہ فرمائے کہ ہمارا تم پر یہ احسان ہے کہ ہم نے رسول کو تم میں سے بھیجا اور ہم یہ کہیں کہ نہیں رسول ہماری جنس سے نہیں ہیں ان کی حقیقت کچھ اور ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ہم میں سے ہوناہمارے لیے اس وجہ سے احسان ہے تاکہ آپﷺ کے افعال اور آپﷺ کی عبادات ہمارے لیے نمونہ اور محبت ہوں ورنہ اگر آپﷺ کسی اور جنس سے مبعوث ہوتے تو کوئی کہنے والا کہہ سکتا تھا کہ آپ ﷺکے افعال اور آپ ﷺکی عبادات ہم پر حجت نہیں ہیں، کیونکہ آپﷺ کی حقیقت اور ہے اور ہماری حقیقت اور ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺیہ افعال اور عبادات کر سکتے ہوں اور ہم نہ کر سکیں! (التوبہ،128) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ لوگوں میں سب سے زیادہ حسین اوررنگ سب سے زیادہ روشن تھا۔ جو شخص بھی آپ ﷺکے چہرہ مبارک کے جمال کو بیان کرتا اس کو چودھویں رات کے چاند سےتشبیہ دیتا اور کہتا کہ آپ ہماری نظر میں چاند سے زیادہ حسین ہیں۔ آپ کا رنگ چمکدار اور چہرہ منور تھا اور چاند کی طرح چمکتا تھا۔ (النحل،43)، لقد جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِنْ انْفُسِكُمْ (التوبہ،128) ترجمہ کنز العرفان: بیشک تمہارے پاس تم میں سے عظیم رسول تشریف لے آئے۔ وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي (النحل،43) ترجمہ کنز العرفان: ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف مردوں ہی کو رسول بنایا۔ کفار یہ کہتے تھے کہ کسی فرشتہ کو رسول کیوں نہیں بنایا ؟ اللہ تعالیٰ اس کے رد میں فرماتا ہے: وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ (الانعام،9) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر ہم نبی کو فرشتہ بنادیتے توبھی اسے مرد ہی بناتے اور ان پر وہی شبہ ڈال دیتے جس میں اب پڑے ہیں ۔ ان تمام آیات میں تصریح ہے کہ نبی بشر انسان اور مرد ہیں لیکن آپ ﷺافضل البشر، انسان کامل اور سب سے اعلیٰ مردہیں، اور اگر نُور سے مراد نور ہدایت لیا جائے تو ان آیتوں میں کوئی تعارض اور تضاد نہیں ہے اور اکثر مفسرین نے نور ہدایت ہی مراد لیا ہے۔ اور اگر آپﷺ کو چاند اور سورج کی طرح نور حسی مانا جائے اور یہ کہا جائے کہ آپﷺ کی حقیقت نور حسی ہے تو قرآن مجید کی ان صریح آیات کو ان اقوال کے تابع کرنا لازم آئے گا اور کیا قرآن مجید کی ان نصوص صریحہ کے مقابلہ میں ان اقوال کو عقیدہ کی اساس بنانا صحیح ہو گا؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بشریت اور نورانیت میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت مریم کے پاس بشری شکل میں آئے تھے ، لیکن اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کیا فرشتے اور حضرت جبرائیل چاند اور سورج کی طرح نور حسی ہیں؟ کیا رات کے وقت ہمارے ساتھ منکر نکیر نہیں ہوتے؟ پھر کیا ان کے ساتھ ہونے سے اندھیرا دُور ہو جاتا ہے ؟ کیاجب رات کو نبی ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل آتے تھے تو روشنی ہو جاتی تھی، فرشتے نور سے بنائے گئے ہیں اللہ ہی جانتا ہے وہ کس قسم کے نور سے بنائے گئے ؟ لیکن یہ بہر حال مشاہدہ سے ثابت ہے کہ وہ چاند اور سورج کی طرح نور حسی نہیں ہیں، کیونکہ دنیا میں ہر جگہ ہر وقت فرشتے موجود ہوتے ہیں اس کے باوجود دنیا میں رات کو اندھیرا بھی ہوتا ہے۔ البتہ ا معتبر روایات سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو نور حسی سے بھی وافر حصہ عنایت فرما تھا۔ (دلائل النبوة ، ج 1، ص 300،مطبوعہ بیروت ) صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی ؒمتوفی 1367ھ نے آپﷺ کے نور ہدایت ہونے کی تصریح کی ہے۔ زیر بحث آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: سید عالم ﷺ کو نور فرمایا گیا کیونکہ آپﷺ سے تاریکی کفر دور ہوئی اور راہ حق واضح ہوئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺکامل انسان اور سید البشر ہیں کائنات میں سب سے زیادہ حسین ہیں۔ آپﷺ نور ہدایت ہیں اور نور حسی سے بھی آپ کو حظ وافر ملا ہے۔ جو آپﷺ کو اپنی مثل بشر کہتے ہیں وہ بد عقیدگی کا شکار ہیں۔

— (آل عمران، 164(التوبہ،128) (النحل،43) (الانعام،9) (دلائل النبوة ، ج 1، ص 300،مطبوعہ بیروت ) (تبیان القرآن،ج3،ص137)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں