حاضرو ناظر

کیا حضور نبی کریم ﷺ کے روضے پہ حاضر ہو کر شفاعت طلب کر سکتے ہیں؟

مختصر جواب
جی بالکل ،حضور اکرم ﷺ اپنے روضہ مبارک میں حیات ہیں اور آپ کو اللہ نے شفاعت کا مقام بھی عطا فرمایا ہے لہٰذا آپ ﷺ سے شفاعت کی درخواست کرنا بالکل جائز ہے اور اس کو قرآن وحدیث میں بیان کیا گیا ہے-
حوالہ 1
النساء، آیت 64
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا
ترجمہ
جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں ا ور رسول ان کی شِفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
— ترجمہ کنزالایمان
تفسیر

علامہ غلام رسول سعیدی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اِس آیت مبارکہ کی تفسیر یوں بیان فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عاصیوں اور گنہ گاروں کو یہ ہدایت دی ہے کہ جب ان سے خطا اور گناہ ہو جائے تو وہ رسول اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ کے پاس آکر استغفار کریں اور رسول اللہ ﷺسے یہ درخواست کریں کہ آپ بھی ان کے لیے اللہ سے درخواست کریں اور جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان پائیں گے، مفسرین کی ایک جماعت نے ذکر کیا ہے ان میں الشیخ ابو منصور الصباغ بھی ہیں، انہوں نے اپنی کتاب ''الشامل ''میں عبتی کی یہ مشہور حکایت لکھی ہے کہ میں حضورنبی کریم ﷺکی قبر پر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابی نے آکر کہا ''السلام علیک یا رسول اللہ ''میں نے اللہ عزوجل کا یہ ارشاد سنا ہے : ولو انهم ان ظلموا انفسهم جاؤك الآیہ اور میں آپ کے پاس آگیا ہوں اور اپنے گناہ پر اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اپنے رب کی بارگاہ میں آپ سے شفاعت طلب کرنے والا ہوں، پھر اس نے دو شعر پڑھے: اے وہ جو زمین کے مدفونین میں سب سے بہتر ہیں جن کی خوشبو سے زمین اور ٹیلے خوشبودار ہو گئے میری جان اس قبر پر فدا ہو جس میں آپ ساکن ہیں اس میں عفو ہے اس میں سخاوت ہے اور لطف و کرم ہے پھر وہ اعرابی چلا گیا، عبتی بیان کرتے ہیں کہ مجھ پر نیند غالب آگئی میں نے خواب میں نبی پاک ﷺکی زیارت کی اور آپﷺنے فرمایا اے عبتی ! اس اعرابی کے پاس جا کر اس کو خوشخبری دو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی ہے۔ ( تفسیر ابن کثیر، ج 2، ص 329 - الجامع لاحکام القرآن ،ج 5، ص 265) مفتی محمد شفیع متوفی 1396ھ لکھتے ہیں: یہ آیت اگر چہ خاص واقعہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن اس کے الفاظ سے ایک عام ضابطہ نکل آیا کہ جو شخص رسول اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جائے اور آپ اس کے لیے دعاء مغفرت کر دیں اس کی مغفرت ضرور ہوجائے گی اورحضور نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضری جیسے آپ کی دنیاوی حیات کے زمانہ میں ہو سکتی تھی اسی طرح آج بھی روضہ اقدس پر حاضری اس حکم میں ہے۔ (معارف القرآن ،ج 2، ص 460،مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی) ان اکابر کے بیان سے معلوم ہوا کہ حضور نبی پاک ﷺکی قبر انورپر حاضر ہو کر شفاعت و مغفرت کی درخواست کرنا قرآن کریم کی آیت کے عموم سےثابت ہے ۔(تبیان القرآن،ج2،ص714)

— ( تفسیر ابن کثیر، ج 2، ص 329 - الجامع لاحکام القرآن ،ج 5، ص 265) (معارف القرآن ،ج 2، ص 460،مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں