توحيد

کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں؟

مختصر جواب
جی نہیں ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے و رسول ہیں کیوں کہ اللہ پاک اولاد سے پاک ہے اور اس کی دلیل بہت سی آیات قرآنی سے ثابت ہے
حوالہ 1
آل عمران، آیت 59
اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَه مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَه كُنْ فَیَكُوْنُ
ترجمہ
عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم کی طرح ہے اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ،ہوجا، وہ فوراً ہوجاتا ہے۔
— ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر

امام ابو الحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی 458ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حسن بیان کرتے ہیں کہ نجران کے دو راہب (سید اور عاقب) رسول اللہ ﷺکے پاس آئے آپﷺنے اُن پر اسلام پیش کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا ہم اس سے پہلے اسلام قبول کر چکے ہیں۔ آپ نے ﷺفرمایا تم جھوٹ بولتے ہو۔ اسلام قبول کرنے سے تمہیں تین چیزیں مانع ہیں۔ تم صلیب کی عبادت کرتے ہو۔ تم خنزیر کھاتے ہو اور تم یہ کہتے ہو کہ اللہ کا بیٹا ہے۔ اُن دونوں نے کہا پھر عیسیٰ کا باپ کون ہے ؟ تو اُس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی : بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم کی طرح ہے۔ اس آیت میں قیاس سے استدلال کرنے کا جواز ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا اس لئے کہتے تھے کہ وہ عام عادت اور معمول کے خلاف باپ کے بغیر پیدا ہوئے ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا حضرت آدم کی پیدائش اس سے بھی غیر معمولی طریقہ سے ہوئی ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ تو صرف باپ کے بغیر پیدا ہوئے اور حضرت آدم باپ اور ماں دونوں کے بغیر پیدا ہوئے اور دونوں میں وجہ مشترک یہ ہے کہ دونوں اللہ تعالیٰ کے کلمہ "کُن" سے پیدا ہوئے اور جب حضرت آدم علیہ السلام بھی کلمہ "کُن" سے پیدا ہونے کے باوجو و ''ابن اللہ ''نہیں ہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے ''ابن اللہ ''کیسے ہو سکتے ہیں۔ بعض علماء کا روم کے عیسائیوں سے مباحثہ ہوا ان سے پوچھا تم عیسیٰ کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کیونکہ اُن کا باپ نہیں تھا۔ علماء نے کہا تو پھر حضرت آدم علیہ السلام عبادت کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ ان کے باپ اور ماں دونوں نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ علماء نے کہا حضرت عیسیٰ نے چار مردے زندہ کئے ہیں اور حضرت حزقیل نے آٹھ ہزار مردے زندہ کئے تھے۔ انہوں نے کہا وہ مادر زاد اندھوں اور برص کے مریضوں کو شفا دیتے تھے۔ علماء نے کہا پھر جرجیس عبادت کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ وہ آگ میں جل جانے کے باوجود صحیح و سالم نکل آئے اور ہمارے نبی کریم ﷺنے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کی نکلی ہوئی آنکھ دوبارہ لگادی اور آپ ﷺکی دعا سے ایک نابینا بینا ہو گیا۔ البحر المحيط ،ج 3،ص 185، مطبوعہ دارالفکر بیروت )) (تبیان القرآن،ج2،ص185)

— (الوسیط ،ج1،ص 443، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت) (البحر المحيط ،ج 3،ص 185، مطبوعہ دارالفکر بیروت )
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں