اخلاقیات

وعدہ پورا نہ کرنے والے کی کیا سزا ہے؟

مختصر جواب
وعدے کو پورا کرنا احکام شرعی کا حصہ ہے اور مومن کی پہچان ہے لہذا اللہ تعالیٰ اس بندے پر غضب ناک ہوتا ہے جو وعدہ پورا نہ کرےاور قرآ ن مجید میں بہت جگہوں پر اس کی تاکید فرمائی گئی ۔
حوالہ 1
الصف، آیت 3
كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ
ترجمہ
کتنی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو۔
— ترجمہ کنزالایمان
تفسیر

ابن زید نے کہا: یہ آیت منافقین کے متعلق نازل ہوئی ہے جو کہتے تھے : اگر تم اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کے لیے نکلے اور تم نے ان سے قتال کیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے اور ان کے ساتھ قتال کریں گے اور جب مسلمان کفار سے مقابلہ کے لیے نکلے تو وہ پیچھے لوٹ گئے اور انہوں نے قتال نہیں کیا۔

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو کسی کام کی نذر مانتے ہیں اور پھر اس کو پورا نہیں کرتے یعنی وہ وہ ایک بات کہتے کہتے ہیں اور اس اس پر عمل نہیں کرتے اور اس آیت سے معلوم سے معلوم ہوا ہوا کہ نذر کا کا پورا کرنا کرنا واجب ہے۔

اسی طرح انسان جب کسی شخص سے کسی چیز کو دینے کا وعدہ کرے یا اس کے لیے کسی کام کو کرنے کا وعدہ کرے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے وعدہ کو پورا کرے ورنہ وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہوگا۔

— تبیان القرآن،ج11،ص865،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • کیا وعدہ خلافی کبیرہ گناہوں میں شامل ہے ؟
    seo
  • وعدہ کی پاسداری اور ایمان
    educational
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں