اولیاء اللہ کے مزارات کی زیارت کےلئے دُور کا سفر کرنا کیسا ہے؟
اولیاء اللہ کے مزارات کی زیارت کے لیے دور دور سے آنا قدیم زمانہ کا دستور ہے
پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ نے لکھا ہے:
علامہ قزوینی تحریر فرماتے ہیں کہ جب اہل انطاکیہ نے اسے شہید کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا (الی قولہ ) انطا کیہ کے بازار میں ایک مسجد ہے اس مسجد کو مسجد حبیب کہا جاتا ہے اس کے صحن میں ان کا مزار پر انوار ہے لوگ اس کی زیارت کے لیے جایا کرتے ہیں۔
(آثار البلادو اخبار العباد للقزود نی، ص 151 مطبوعہ بیروت)
ضیاء القرآن، ج 3، ص 172، ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور ) )
علامہ یا قوت بن عبد اللہ حموی متوفی 226 ھ لکھتے ہیں:
انطاکیہ میں حبیب نجار کی قبر ہے دور و نزدیک سے لوگ اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔
معجم البلدان ،ج 1،ص 269،داراحيا والتراث العربی ) )
مفتی محمد شفیع متوفی 1396 ھ لکھتے ہیں۔
یاقوت حموی نے یہ بھی لکھا ہے کہ حبیب نجار کی قبر انطاکیہ میں معروف ہے دور دور سے لوگ اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔
(معارف القرآن ج ۷ ص ۲۷۲ مطبوعی ادارہ معارف القرآن کراچی ۱۳۹۷ )
ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ صالحین اور اولیاء اللہ کی قبروں کی زیارت کے لیے دور دور سے جانا زمانہ قدیم سے معمول چلا آ رہا ہے اور یہ اس زمانہ کی بدعت نہیں ہے بلکہ مسلمانوں میں اس کا ہمیشہ سے چلن اور رواج رہا ہے۔
سید ابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں:
موجودہ شہر مکلا سے تقریبا 152 میل کے فاصلہ پر شمال کی جانب میں حضر موت میں ایک مقام ہے جہاں لوگوں نے حضرت ھود کا مزار بنا رکھا ہے اور وہ قبر ھود کے نام سے ہی مشہور ہے، ہر سال پندرہ شعبان کو وہاں عرس ہوتا ہے اور عرب کے مختلف حصوں سے ہزاروں آدمی وہاں جمع ہوتے ہیں ۔ (تفہیم القرآن ،ج 4، ص 615،لاہور)
اب بھی یہ کہا جائے گا کہ انبیا علیہ السلام اور اولیاء کرام کا عرس منانا بریلوں کی بدعت ہے !
اس سوال کے دیگر الفاظ
- کیا خواتین اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری دے سکتی ہیں ؟seo
- قبروں کی زیارت کو جانا کیا شرک یا بدعت ہے ؟educational