حیاتِ بعد الموت

کیا قبر میں مردے سنتےہیں اور غور و فکر بھی کرتے ہیں؟

QB-00059·منظوری: asma asghar
مختصر جواب
جی ہاں !قبر میں مردے سنتے اور دیکھتے ہیں اورمگر قرآن و احادیث میں صرف مردوں کے سننے پر دلائل موجود ہیں اور یہ بات ثابت نہیں کہ وہ غور وفکر بھی کرتے ہیں کیونکہ موت کی وجہ سے یہ صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔
حوالہ 1
(Word doc — فاطر)
وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِـعُ مَنْ یَّشَآءُ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِـعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ (فاطر،22)
ترجمہ
اور زندہ اور مردے برابر نہیں ۔ بیشک اللہ سنا تا ہے جسے چاہتا ہے اور تم انہیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں پڑے ہیں ۔
ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر

قبر والوں کے غور و فکر نہ کرنے پر ایک اعتراض کا جواب:

اس جگہ پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ آپ نے اس آیت کی تقریر میں یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کو مردوں سے تشبیہ دی ہے جو کسی بات کو سن کر اس میں غور و فکر نہیں کر سکتے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے ایسا کلام فرمایا جس میں ان کو غور و فکر کرنے کے لیے فرمایا تھا اور آپ نے ان کے سننے کی بھی تصریح فرمائی جیسا کہ اس حدیث میں ہے:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولین بدر کو تین دن تک پڑے رہنے دیا پھر آپ ان کے پاس جا کر کھڑے ہوئے اور ان کو پکار کر فرمایا: اے ابو جہل بن ہشام ! اے امیہ بن خلف ! اے عقبہ بن ربیعہ اے شیبہ بن ربیعہ !کیا تم نے اپنے رب کے کئے ہوئے وعدہ کو سچا پا لیا ؟بے شک میرے رب نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا میں نے اس کو سچا پایا ہے ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو سن کر عرض کیا: یا رسول اللہ ! یہ کیسے سنیں گے اور کس طرح جواب دیں گے حالانکہ یہ مردہ اجسام ہیں، آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! میں جو کچھ ان سے کہہ رہا ہوں اس کو تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو لیکن یہ جواب دینے پر قادر نہیں ہیں پھر آپ کے حکم سے ان کی لاشوں کو گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔

(صحیح مسلم حلقة الجنہ، 77،رقم الحدیث :2874 )

اس کا جواب یہ ہے کہ عام طور پر مردوں کا یہی قاعدہ ہے کہ وہ کسی بات کو سن کر غور و فکر نہیں کرتے اور نہ کسی پیغام کو قبول کرتے ہیں لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ بدر کے ان مردہ کافروں کو اللہ تعالیٰ نے زندہ فرما دیا ہو،تا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلام کو سنیں اور اس پر غور و فکر کریں اور انہوں نے کفر اور شرک پر جو اصرار کیا تھا اس پر نادم ہوں، بہر حال اس آیت سے مردوں کے مطلقاًسننے کی نفی نہیں ہوتی بلکہ کسی بات کو سن کر اس پر غور و فکر کرنے اور کسی پیغام کو قبول کرنے کی نفی ہوتی ہے ۔

تبیان القرآن،ج9،ص670،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • کیا میت قبر پر ٓآنے والوں کی ٓآواز سن سکتی ہے ؟
    seo
  • کیا مردے قبر میں بات چیت کرتے ہیں ؟
    educational
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں