حیاتِ انبیاء

کیا انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں؟

مختصر جواب
جی ہاں! انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں حیات ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا کہ وہ انبیاء کرام کے جسموں کو کھائے (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث: 1047) اور ان کی حیات کا ثبوت آیات قرآنی سے ملتا ہے ۔
حوالہ 1
سبا، آیت 14
فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِ
ترجمہ
پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا جنّوں کو اس کی موت نہ بتائی مگر زمین کی دیمک نے کہ اس کا عصا کھاتی تھی پھر جب سلیمان زمین پر آیا جنّوں کی حقیقت کُھل گئی اگر غیب جانتے ہوتے تو اس خواری کے عذاب میں نہ ہوتے۔
— ترجمہ کنزالایمان
تفسیر

حضرات انبیاء علیہم السلام کی حیات اور وفات کے بعد ان کا قبروں سے نکلنا

حضرت سلیمان علیہ السلام عصا کے سہارے کھڑے ہوئے تھے اور اسی حال میں ان کی روح قبض کر لی گئی اور ایک سال تک جن اور انسان یہی گمان کرتے رہے کہ آپ زندہ ہیں، آپ کے جسم میں کوئی تغیر نہیں ہوا اور نہ چہرے کی آب و تاب اور رعب و جلال میں کوئی فرق آیا اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کی حیات جسمانی ہوتی ہے اور موت سے ان کا جسم بوسیدہ نہیں ہوتا اور ان کی حیات اور موت میں کوئی فرق نہیں ہوتا باقی رہا یہ کہ وہ عصا کے سہارے کھڑے تھے اور جب دیمک نے ان کے عصا کو کھا لیا تو وہ زمین پر آ رہے اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تجہیز و تکفین کرانی تھی اور ان کی تدفین کرانی تھی اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ امور کیسے واقع ہوتے،انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں سے نکل کر زمین و آسمان کی اطراف میں آتے جاتے ہیں اور تصرف کرتے ہیں اس پر دلیل حسب ذیل احادیث ہیں:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی ازرق سے گزرے تو آپ نے فرمایا: یہ کون سی وادی ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ وادی ازرق ہے آپ نے فرمایا گویا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کی ثنیہ (گھاٹی) سے اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور وہ بلند آواز سے تلبیہ (اللھم لبیک ) پڑھ رہے تھے پھر آپ ایک گھاٹی ھرشیٰ پر آئے، آپ نے پوچھا یہ کون سی گھاٹی ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ ھرشیٰ گھاٹی ہے، آپ نے فرمایا گویا کہ میں یونس بن متی علیہ السلام کی طرف دیکھ رہا ہوں وہ ایک طاقت ور سرخ اونٹنی پر سوار ہیں جس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے انہوں نے ایک اونی جبہ پہنا ہوا ہے اور وہ اللھم لبیک کہہ رہے ہیں۔

(صحیح مسلم ،رقم الحدیث 166،سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث 2891)

حضرت عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے کعبہ کے پاس گندمی رنگ کا ایک شخص دیکھا جس کے بال سیدھے تھے اور ان سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اس نے دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ عیسٰی بن مریم یا مسیح بن مریم علیہ السلام ہیں ۔

(صحیح مسلم، رقم الحدیث: 71)

— تبیان القرآن،ج9،ص614،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • کیا تمام انبیاء کرام آج بھی حیات ہیں ؟
    seo
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں