فقہ — معاملات

کیا جوئے میں جیتی ہوئی رقم صدقہ کر سکتے ہیں؟

QB-00054·منظوری: asma asghar
مختصر جواب
جوئے کے مال کی حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے جس میں دارالحرب میں شرط سے جیتی رقم صدقہ کی گئی۔لیکن جوئے کا مال حرام ہوتا ہے اور حرام مال سے صدقہ جائز نہیں۔
حوالہ 1
(Word doc — النمل)
الٓمّٓ غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَ(الروم،1۔2۔3)
ترجمہ
الف،لام،میم۔ رومی مغلوب ہوگئے۔قریب کی زمین میں اور وہ اپنی شکست کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔
ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر

جوئے میں جیتی ہوئی رقم کو صدقہ کرنے کے حکم پر اشکال کے جوابات

حدیبیہ کے دن رومیوں کو ایرانیوں پر غلبہ حاصل ہوا اور حضرت ابو بکر نے ابی بن خلف کے وارثوں سے اپنی شرط کی جیت کو وصول کر لیا اور ان اونٹنیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئے تو آپ نے فرمایا ان کو صدقہ کر دو اور اس سے فقہاء احناف نے یہ استدلال کیا ہے کہ دار الحرب میں فاسد معاملات منعقد ہو جاتے ہیں اور اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ یہ واقعہ جوئے کو حرام قرار دینے سے پہلے کا ہے اور یہ آیت آپ کی نبوت کے دلائل میں سے ہے کیونکہ اس میں غیب کی خبر ہے۔

( تفسير البیضاوي مع الخفاجی،ج 7، ص 371،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

علام احمد بن محمد خفاجی حنفی متوفی 1069ھاس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں:

اگر چہ یہ واقعہ جوئے کو حرام قرار دینے کے بعد کاہے لیکن یہ واقعہ مکہ میں ہوا ہے اور فتح مکہ سے پہلے مکہ دارالحرب تھا۔ اورامام ابو حنیفہ کے نزدیک دارالحرب میں عقود فاسدہ جائز ہیں جیسا کہ ان کے نزدیک دار الحرب میں حدود ساقط ہو جاتی ہیں۔ اور حدیث میں جو جیتی ہوئی شرط کو صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ہے اس کا بعض احادیث میں ذکر نہیں ہے۔

اگر یہ سوال کیا جائے کہ سحت ( مال حرام ) کو صدقہ کرنے کی کیا دلیل ہے اور جس چیز کا انسان مالک نہیں ہے اس کو صدقہ کرنے کی کیا توجیہ ہے؟

تو ہم کہیں گے کہ علماء کی ایک جماعت کا یہ مذہب ہے کہ مال حرام کو صدقہ کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف پاک چیزوں کو قبول کرتا ہے اور بعض علماء نے اس کو جائز کہا ہے اور اس میں بحث ہے کیونکہ کسی حرام مال کے مالک کا علم ہو تو وہ مال اصل مالک کو لوٹا دینا چاہیے سو یہ مال ابی بن خلف کے وارثوں کو لوٹا دینا چاہیے تھا ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ہو سکتا ہے آپ نے کسی اور مصلحت کی وجہ سے اس کو صدقہ کرنے کا حکم دیا ہو اگر یہ کہا جائے کہ یہ حربی کا مال ہے اور اس کا مال مباح ہوتا ہے حرام نہیں ہوتا ،لہٰذاایہ مال حرام کا صدقہ نہیں ہوگا۔ اور ہمارے مذہب میں جب تک مال حرام دوسرے کے مال سے مخلوط نہ ہو جائے اس کا صدقہ کرنا واجب نہیں ہے اس کا جواب ہے کہ یہاں صدقہ کرنے کے حکم سے مقصود یہ ہے کہ مال حرام کو اپنے پاس رکھنے سے بری ہوا جائے ۔

(حاشیۃ الخفاجی علی البیضاوی، ج 7، ص 372،مطبوعہ دار الكتب العربیہ بیروت )

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270ھ اس بحث میں لکھتے ہیں:

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط میں جیتی ہوئی اونٹنیوں کے متعلق فرمایا یہ مال حرام ہے اس کو صدقہ کر دو اس پر یہ اشکال ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور خمر اور جوئے کو حرام قرار دینے کی آیت قرآن مجید کے آخر میں نازل ہوئی ہے تو اس کو حرام فرمانے کی کیا وجہ ہے؟ اور اگر جوئے کو حرام قرار دینے کے بعد آپ نے اس کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تو جب اس کے مالک (ابی بن خلف کے ورثاء ) معلوم تھے اور موجود تھے اور ایسی صورت میں مال اصل مالک کو لوٹا دیا جاتا ہے تو پھر صدقہ کرنے کے حکم کی کیا توجیہ ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کے متعلق فرمایا یہ سحت ہے اور اس حدیث میں سحت کا معنی مال حرام نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ہے وہ مال جو عار کا باعث ہو اور مروت اور نیک نامی میں نقص اور خلل کا سبب ہو جیسا کہ آپ نے فرمایا قصد لگانے کا کسب سحت ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ یہ کسب حلال نہیں ہے اسی طرح آپ کا مطلب یہ تھا کہ جوئے میں جیتا ہوا مال ہر چند کہ حلال ہے کیونکہ اس کا عقد دار الحرب میں ہوا ہے اور یہ جوئے کی تحریم سے پہلے کا عقد ہے لیکن ابو بکر کی نیک نامی اور ان کی شرافت کی جو شہرت ہے اس کے یہ منافی ہے کہ وہ جوئے میں جیتا ہو ا مال اپنے پاس رکھیں۔ (روح المعانی ،جز 21، ص 29،مطبوعہ دار الفکر بیروت )

تبیان القرآن،ج9،ص131،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • کیا جوئے کا کاروبار شرعی اعتبار سے جائز ہے ؟
    seo
  • حرام مال کا حکم اور اس کا تصرف؟حکم قرآنی اور احادیث کی روشنی میں
    educational
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں