توسل

کیا اولیاء اللہ کے مزار پر جا کر مرادیں مانگنا جائز ہے؟

مختصر جواب
جی ہاں! مزارات پر جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا جائز ہے کیوں کہ اولیاء اللہ مقرب بندے ہیں لہذا ان مقرب ہستیوں (صاحب مزار ) کے وسیلہ سے دعائیں قبول ہوتی ہیں اور وہاں جا کر یہ کہنا کہ ہمارا فلاں کام ان کے وسیلہ سے ہوجائے یا مشکل دور ہوجائے یہ دعا اپنے گھر میں بھی کی جاسکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے پاس جا کر دعا کی جائے تو دعا کا قبول ہونا زیادہ متوقع ہے اور نیک بندوں پر جو برکتیں نازل ہوتی ہیں وہ بھی شامل حال ہوں گی۔ البتہ صاحبِ مزار سے براہِ راست یہ کہنا کہ آپ ہمیں بیٹا دے دیں، جائز نہیں کیونکہ یہ کلمات موہمِ شرک ہیں؛ اور نذر صرف اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے۔
حوالہ 1
مریم، آیت 19
لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا
ترجمہ
میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔
— ترجمہ کنزالایمان
تفسیر

اولیاء اللہ کے مزارات پر مرادیں مانگنا:

بیٹا دینا حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی صفت ہے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے جو کہا تھا کہ میں تمہیں ایک پاکیزہ بیٹا دوں یہ اسناد مجازی ہے، بعض لوگ اولیاء اللہ کے مزارات پر جا کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ولی کے وسیلہ سے یا اس کی دعا سے ان کو بیٹا دے دے یا ان کا کوئی اور کام بنا دے اور جب ان کے ہاں بیٹا ہو جائے تو کہتے ہیں کہ یہ فلاں ولی نے بیٹا دیا ہے یہ بھی اسناد مجازی ہے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کے قول کی طرح ہے۔

البتہ مزار پر جا کر یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ اے صاحب مزار ! آپ ہمیں بیٹا دے دیں اگر چہ اس میں بھی اسناد مجازی کی تاویل ہو سکتی ہے کہ آپ ہمارے لیے بیٹے کی دعا کر دیں، لیکن یہ کلمات موہمِ شرک ہیں اس لیے صاف اور سیدھا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالی سے دعا کریں کہ وہ اپنے اس مقرب بندہ کے وسیلہ سے ہماری دعا قبول کرے اور ہمارا فلاں کام کر دے یہ دعا اپنے گھر میں بھی کی جاسکتی ہے لیکن اللہ کے نیک بندوں کے پاس جا کر دعا کی جائے تو دعا کا قبول ہونا زیادہ متوقع ہے اور نیک بندوں پر جو برکتیں نازل ہوتی ہیں وہ بھی شامل حال ہوں گی اور نذر صرف اللہ کی ہوتی ہے اولیاء اللہ کی نذر ماننا جائز نہیں ہے اور صدقہ و خیرات کر کے اس کا ثواب انہیں پہنچانا ایک الگ چیز ہے۔

— تبیان القرآن،ج7،ص265،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • کیا مزارات پر جانا منت ماننا شرک ہے؟
    seo
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں