English translation is being prepared. The Urdu source is shown below. View in Urdu →
غیراللہ سے مدد مانگنا

کیا مصیبت یا مشکل وقت میں غیر اللہ کو مدد کےلئے پکارنا جائز ہے؟

مختصر جواب
افضل و اولیٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پکار اجائے،البتہ غیراللہ کو پکارنا کچھ شرائط کے ساتھ جائز ہے کیوں کہ ان کو اللّٰہ تعالیٰ نے ہی انسان کے لئے اسباب اور وسیلہ بنایا ہے اور یہ شرک یا ناجائز عمل نہیں یہ بات احادیث و آیات کی روشنی میں واضح ہے ،دلائل درج ذیل ہیں۔
حوالہ 1
یوسف، آیت 42
وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَ
ترجمہ
اور یوسف نے ان دونوں میں سے جسے بچتا سمجھا اس سے کہا اپنے رب (بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا تو شیطان نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب (بادشاہ) کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا۔
— ترجمہ کنز الایمان
تفسیر

تفسیر: علامہ محمود بن عمر ز مخشری خوارزمی متوفی 538ھ لکھتے ہیں: اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نےایک (بادشاہ )غیر اللہ سے جو مدد لی تھی اس پر کیوں عتاب کیا گیا جبکہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں غیر اللہ سے مدد لینا جائز ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى (المائدہ،2) نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے اس قول کی حکایت کی ہے: مَنْ أَنْصَارِي إِلَى الله (آل عمران،52) اللہ کی طرف میرے کون مددگار ہیں؟ اور اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کر دے گا اور جو شخص کسی مسلمان کا پردہ رکھے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا پردہ رکھے گا اور اللہ اس وقت تک اپنے بندہ کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ (صحیح مسلم ،رقم الحدیث: 2699، سنن ابو داؤد ،رقم الحدیث: 4946،سنن الترمذی ،رقم الحدیث: 1425) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اس پر ظلم کرے نہ اس کو ہلاکت میں ڈالے، اور جو شخص اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد میں رہتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سختی کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالی اس سے قیامت کی سختیوں میں سے کوئی سختی دور کر دیتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کا پردہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا۔ (صحیح البخاری ،رقم الحدیث: 2442، صحیح مسلم ،رقم الحدیث:2580، سنن ابو داؤد ،رقم الحدیث: 4893) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مدینہ آنے کے ابتدائی ایام میں ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ نے فرمایا : کاش میرے اصحاب میں سے کوئی نیک شخص آج رات میری حفاظت کرتا! پھر ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی، آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں سعد بن ابی وقاص ہوں اور آپ کی حفاظت کے لیے آیا ہوں! اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ۔ (صحیح البخاری ،رقم الحدیث: 2885، صحیح مسلم ،رقم الحدیث: 2410، سنن الترمذی ،رقم الحدیث: 3757) پھر علامہ زمخشری ؒلکھتے ہیں کہ مخلوق میں سے کسی کام میں مدد حاصل کرنا ایسا ہی ہے جیسے مرض کے ازالہ کے لیے دواؤں کو تناول کرنا اور طاقت حاصل کرنے کے لیے کھانا پینا (یا مقویات کھانا) خواہ کافر سے مدد لی جائے کیونکہ وہ بادشاہ کافر تھا جس سے حضرت یوسف علیہالسلام نے مدد لی،کیونکہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ ظلم سے بچنے کے لیے یا دریا میں ڈوبنے اور آگ میں جلنے سے بچنے کے لیے اور اور اسی طرح کی دوسری مصیبتوں میں کفار سے مدد لینا جائز ہے۔ (تبیان القرآن،ج5،ص775،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)

— (تبیان القرآن،ج5،ص775،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)
حوالہ 2
المائدۃ، آیت 2
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى
ترجمہ
اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو
— ترجمہ کنز العرفان

اس سوال کے دیگر الفاظ

  • کیا پریشانی اور تکلیف کے وقت غیر اللہ سے مدد طلب کی جا سکتی ہے؟
    phrasing
  • کیا غائبانہ طور پر کسی بزرگ یا ولی کو مدد کے لیے پکارنا جائز ہے؟
    phrasing
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں