English translation is being prepared. The Urdu source is shown below. View in Urdu →
غیر اللہ سے مدد

کیارسول اللہ ﷺکی طرف ''عطا'' کی نسبت کر سکتے ہیں؟

مختصر جواب
جی ہاں رسول اللہﷺکی طرف عطا کی نسبت کرنا بالکل درست اور جائز ہے کیوں کہ آپ کو اللّٰہ نے خزانوں کی کنجیاں عطا فرمائی اور بے شمار اختیارات عطا فرمائے اور آپ اللّٰہ کی عطا سے ہی تقسیم فرماتے ہیں۔
حوالہ 1
التوبۃ، آیت 59
وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ
ترجمہ
اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ و رسول نے ان کو دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے اب دیتا ہے ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اللہ کا رسول ہمیں اللہ ہی کی طرف رغبت ہے۔
— ترجمہ کنز الایمان
تفسیر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دینے اور عطا کرنے کی نسبت درست ہے اور اس کو شرک کہنا درست نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کی ترغیب دی ہے کہ یوں کہنا چاہیے کہ عنقریب اللہ اور اس کا رسول ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمائیں گے اور اللہ اور رسول کے دینے میں فرق ہے، اللہ تعالیٰ بالذات عطا فرماتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت، اس کے اِذن اور اس کے حکم سے عطا فرماتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی اور آیات میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عطا کرنے کی نسبت کی گئی ہے: وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ (التوبۃ،74) ترجمہ کنز العرفان: اور انہیں یہی بُرا لگا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا۔ وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ (الاحزاب،37) ترجمہ کنز العرفان: اور جب آپ اس شخص سے کہتے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے (بھی) اس پر انعام کیا۔

— (تبیان القرآن،ج5،ص163،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں