English translation is being prepared. The Urdu source is shown below. View in Urdu →
غیر اللہ سے مدد

کیا انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء کرام بھی تصرف کر سکتے ہیں؟

مختصر جواب
جی ہاں ،انبیاء کرام اور اولیاء کرام اللہ کے خاص اور مقبول بندے ہیں اللہ پاک کی دی ہوئی طاقت اور رحمت سے وہ تصرف کرسکتے ہیں قرآن پاک اور حدیث پاک میں اس کےجواز پر دلیل موجود ہے
حوالہ 1
الانعام
وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَه اِلَّا هُوَ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِه یُصِیْبُ بِه مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِه وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ
ترجمہ
اور اگر تجھے اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں اس کے سوا اور اگر تیرا بھلا چاہے تو اس کے فضل کے رد کرنے والا کوئی نہیں اسے پہنچاتا ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
— ترجمہ کنز الایمان
تفسیر

اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مصیبت اور ضرر کو دور نہیں کر سکتا، حالانکہ انسان کبھی خود اپنی کوشش سے مصیبت کو دور کرلیتا ہے ،کبھی اس کے دوست اور رشتہ دار اس مصیبت کو دور کر دیتے ہیں ،انسان بیمار پڑ جاتا ہے تو ڈاکٹر دوا کے ذریعہ اس کی بیماری اور تکلیف کو دور کر دیتا ہے ، قیامت کے دن انبیاء علیہم السلام عموماً اور ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺخصوصاً گناہ گاروں کی شفاعت فرما کر اُن سے عذاب کی مصیبت کو دور کریں گے بلکہ آپ ﷺنے دو گنہ گاروں کی قبر پر شاخ کے دو ٹکڑے نصب کر کے ان سے برزخ کا عذاب دور کر دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دکھتی ہوئی آنکھ میں ،حضرت سلمہ بن اکوع کی ٹوٹی ہوئی پنڈلی میں اور حضرت زید بن معاذ کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ میں لعاب دہن لگایا اور اُن سے دنیا کی تکلیف کو دور کر دیا اور وہ شفایاب ہو گئے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں کی شفا کی حدیث روایت کی ہے۔ (صحیح البخاری ج 4، رقم الحدیث: 3701) نیز امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی ٹوٹی ہوئی پنڈلی کی حدیث بھی روایت کی ہے۔ (ج5،رقم الحديث : 4206) اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے کہ ابو رافع یہودی کو قتل کرنے کے لیے حضرت عبد اللہ بن عتیک گئے اور اس مہم میں اُن کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ رسول اللہ ﷺنے اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ اس طرح درست ہو گئی کہ کبھی ٹوٹی ہی نہ تھی۔ (صحیح البخاری ،ج 5، رقم الحدیث : 4039) اسی طرح اولیاء اللہ کی کرامتوں سے بھی لوگوں کی بیماریاں اور ان کے مصائب دور ہو جاتے ہیں اور یہ تمام امور اس آیت کے مخالف ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذاتی قدرت سے اپنے بندوں کے مصائب اور تکلیفوں کو دور کرتا ہے اس کے برخلاف لوگ جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ان کی مشکلات میں کام آتے ہیں اور ان کے مصائب کو دور کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی دی ہوئی طاقت سے کرتے ہیں اور دواؤں میں شفا کی تاثیر اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔ وہ محض سبب ہیں شفا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ چاہے تو بغیر دوا کے شفادے دے اور اگر وہ نہ چاہے تو کسی دوا سے شفا نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت اور اس کے اذن سے تصرف کرتے ہیں۔ بیماروں کو شفا دیتے ہیں اور گنہ گاروں کی شفاعت کرتے ہیں اور تنگ دستہ تنگ دستوں کو غنی کرتے ہیں اور ان افعال کی ان کی طرف نسبت کرنا جائز ہے۔ قرآن مجید میں ہے: وَ مَا نَقَمُوْا اِلَّا اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُه مِنْ فَضْلِه (التوبۃ،74) ترجمہ کنز العرفان: اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا۔ دیکھئے حقیقت میں غنی کرنے والا صرف اللہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سےغنی کر دیا " سو معلوم ہوا ایسا کہنا جائز ہے۔ البتہ یہ اعتقاد ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذاتی قدرت سے غنی کیا اور رسول اللہ ﷺنے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت اور اس کے اذن سے غنی کیا۔ اسی طرح قرآن مجید میں ہے۔ وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ (الاحزاب،37) ترجمہ کنز العرفان: اور اے محبوب! یاد کرو جب تم اس سے فرمارہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اورجس پر آپ نے انعام فرمایا۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ منعم حقیقی ہے اور آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت اور اس کے اذن سے انعام فرمایا مگراللہ تعالیٰ نے انعام کرنے کی نسبت دونوں کی طرف کی ہے اور حضرت جبرائیل نے حضرت مریم سے کہا: قَالَ اِنَّمَا اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا (مریم،19) ترجمہ کنز الایمان: بولا میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔ حقیقت میں بیٹا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے بیٹا دینے کی نسبت حضرت جبرائیل کی طرف کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کو اس کا سبب اور ذریعہ بنایا تھا۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی دعاؤں سے بھی بیٹا ہو جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے ہمارے نبی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔ اور قرآن مجید میں مذکور ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا سے پیدا ہوئے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اولیاء کرام کی دعا منظور فرمائے تو اُن کی دعا سے بھی اولاد ہو سکتی ہے، لیکن صحیح طریقہ یہ ہے کہ اولیاء کرام سے دعا کی درخواست کی جائے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کریں کہ ہمار ا فلاں مطلوب پورا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اولیاء کرام کی ایسی عزت وجاہت اور مقبولیت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کرم اور فضل سے اُن کی دعا قبول فرمالیتا ہے اور رد نہیں فرمایا۔ اس نے خود فرمایا ہے کہ میں اپنے مقرب بندہ کو جب اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اُس کے سوال کو رد نہیں کرتا۔ حدیث میں بھی غنی کرنے کی نسبت اللہ اور رسول دونوں کی طرف کی گئی ہے۔ امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256ھ روایت کرتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺنے صدقہ وصول کرنے کا حکم دیا ،آپ کو بتایا گیا کہ ابن جمیل،حضرت خالد بن ولیداور حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہا نے صدقہ دینے سے منع کیا ہے۔ نبی کریمﷺنے فرمایا : ابن جمیل کو تو صرف یہ بات ناگوار ہوئی ہے کہ وہ فقیر تھاتو اللہ اور اس کے رسول نے اس کو غنی کر دیا اور رَہا خالد تو تم اس پر ظلم کرتےہو، اُس نے اپنی زِرہ محفوظ رکھی ہے اور اس کو جہادفی سبیل اللہ کے لیے وقف کیا ہوا ہے اور رہے حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ تو وہ رسول اللہ ﷺکے عَم (محترم) ہیں۔ جتنا صدقہ اُن پر واجب ہے اُن سے اُتنا اور وصول کیا جائے (یعنی اُن کے بلند رتبہ کی وجہ سے اُن سے دُگنی زکوٰۃ وصول کی جائے۔ سعیدی غفرلہ) ان تصریحات سے واضح ہو گیا کہ حقیقتاً بلا واسطہ اور بالذات مصائب کو دور کرنے والا اور نعمتیں عطا فرمانے والا اللہ تعالیٰ ہے تاہم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت اور اس کے اذن سے مقربان حضرت رب العزت ،خصوصا ہمارے نبی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ بھی عذاب اور مصائب کو دور کرتے ہیں اور دنیا اور آخرت میں غنی اور شاد کام کرتے ہیں۔ (صحیح البخاری ، ج 7، رقم الحدیث: 243)، (تبیان القرآن ،ج3،ص413)

— (صحیح بخاری ،216) (شفاء، ج1، ص 213) ، (صحیح البخاری ج 4، رقم الحدیث: 3701) (ج5،رقم الحديث : 4206) (صحیح البخاری ،ج 5، رقم الحدیث : 4039)، (التوبۃ،74) (الاحزاب،37) (مریم،19) (تبیان القرآن ،ج3،ص413)، (مسند احمد، ج 3، ص 127) (صحیح البخاری ، ج 7، رقم الحدیث: 243)، (تبیان القرآن ،ج3،ص413)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں