English translation is being prepared. The Urdu source is shown below. View in Urdu →
غیر اللہ سے مدد

کیا انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء کرام کے وسیلے سے دعا کرنا جائز ہے؟

مختصر جواب
جی ہاں ، وسیلہ سے دعا کرنا اور اللہ کے حضور اپنی التجاوں کو انبیاء اور اولیاء کے توسل سے پیش کرنا جائز ہے اور اس پر آیت قرآنی اور احادیث گواہ ہیں
حوالہ 1
المائدۃ، آیت 35
یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ
ترجمہ
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو،
— ترجمہ کنز الایمان
تفسیر

امام محمد بن محمد جزری متوفی 833ھ آداب دعا میں لکھتے ہیں: اللہ تعالی کی بارگاہ میں انبیاء کرام علیہم السلام اور صالحین کا وسیلہ پیش کرے۔ شیخ ابو العباس تقی الدین احمد بن تیمیہ متوفی 728 ھ لکھتے ہیں: ہم یہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والا یہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے فلاں کے حق اور فلاں فرشتے اور انبیاء اور صالحین وغیرھم کے حق میں سوال کرتا ہوں یا فلاں کی حرمت اور فلاں کی وجاہت کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں تو اس دعا کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان مقربین کی وجاہت ہو اور یہ دعا صحیح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان مقربین کی وجاہت اورحرمت ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی قدر افزائی کرے اور جب یہ شفاعت کریں تو ان کی شفاعت قبول کرے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ سبحانہ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کون اس سے شفاعت کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انبیاء کرام علیہم السلام کی وجاہت ان کی حرمت اور ان کے حق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو اپنی بارگاہ میں یہ عزت عطا فرمائی ہے کہ وہ ان کے سوال اور ان کی دعا کو مسترد نہیں فرماتا ہر چند کہ وہ اس پر قادر ہے کہ وہ ان کی دعا کو مسترد فرمادے، لیکن ایسا کرنا ان کو دی ہوئی عزت اور وجاہت کے خلاف ہے۔ ان کا اللہ پر حق ہے ،اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ جیسے اجیر کا آجر پر حق ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے ان کی دعا کو قبول کرنے کا جو وعدہ فرمالیا ہے اس وعدہ کی جہت سے ان کا حق ہے، فی ذاتہ کوئی استحقاق نہیں ہے، یا حق بمعنی وجاہت اور حرمت ہے استحقاق کے معنی میں نہیں ہے۔ امام بخاریؒ نے روایت کیا ہے کہ جب بندہ فرائض ادا کر کے نوافل کو ہمیشہ پڑھتا ہے تو اللہ اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے اور جب وہ اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے تو اللہ اس کے کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھیں ہو جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پیر ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے اور فرماتا ہے اگر وہ مجھ سےسوال کرے تو میں اس کو ضرور عطا کروں گا اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں ضرور اس کو اپنی پناہ میں لوں گا۔ اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر ولی اور نبی سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان کی دعا ضرور قبول فرمائے گا اور ان کی دعا رد نہیں فرمائے گا اور ان کا اللہ پر یہی حق ہے اور یہی ان کی اللہ کی بارگاہ میں وجاہت اور حرمت ہے۔ اس لیے انبیاء اور اولیاء کے وسیلہ سے دعا کرنا یا ان سے دعا کرنے کی درخواست کرنا صحیح ہے ۔

— (حصن حصین مع تحفۃ الذاکرین ، ص 34، مطبوعہ مطبع مصطفی البابی و اولاده ،مصر) (فتاوی ابن تیمیہ، ج 1، ص 211، مطبوعہ با مرفہد بن عبد العزیز) (صحیح البخاری ،ج 7 ،رقم الحدیث: 6502،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۳۱۳) (تبیان القرآن،ج3،ص171)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں