کیا حضور نبی کریم ﷺ نے سورج کو واپس لوٹایاتھا؟
علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: حضرت اسماء بنت عُمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف وحی کی جارہی تھی اور اُن کا سر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز نہیں پڑھی ، حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺنے دعا کی: اےاللہ !بے شک علی تیری اطاعت اور تیرے رسول کی اطاعت میں مشغول تھے تو اُن پر سورج لوٹا دے۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے دیکھا کہ سورج غروب ہو گیا تھا اور پھر غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہو گیا۔ المعجم الکبیر، ج 24 ،ص150،رقم الحدیث: 390 ) یہ حدیث نبوت کی عظیم علامتوں میں سے ہے۔ کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺکی وجہ سے ا پنے آپ کو پابندرکھا۔ اس لیے آپﷺ نے ان کے لیے سورج لوٹانے کی دعا کی۔ اس سے نماز عصر کی اہمیت بھی معلوم ہوتی ہے۔ ( شرح مشکل الآثار، ج 3، ص 98 مطبوعه موسسه الرسالہ، بیروت) (تبیان القرآن،ج3،ص150)