English translation is being prepared. The Urdu source is shown below. View in Urdu →
متفرق
کیا فوت شدہ مسلمان اپنے گھر والوں کے اعمال پر مطلع ہوتے ہیں ؟
مختصر جواب
جی ہاں ،فوت شدہ مسلمان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جاتے ہیں اور انہیں اپنے گھر والوں کے اعمال کی خبر ہوتی ہے اور اس کا ثبوت قرآن و احادیث میں ہے
حوالہ 1
آل عمران، آیت 170
فَرِحِیْنَ بِمَا اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِه وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ
ترجمہ
(وہ) اس پر خوش ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اور اپنے پیچھے(رہ جانے والے) اپنے بھائیوں پر بھی خوش ہیں جو ابھی ان سے نہیں ملے کہ ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔
— ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر
اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ شہداء اپنے جن لواحقین کے متعلق متفکر رہتے ہیں اُن کے احوال اُن پر منکشف کر دیئے جاتے ہیں اور اس آیت میں اصحاب اُحدکے لیے یہ بشارت ہے کہ اُس دن کے بعد اُن کو کوئی پریشانی لاحق نہ ہو گی۔ امام احمد بن حنبل متوفی 241ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تمہارے اعمال تمہارے فوت شدہ عزیزوں اور رشتہ داروں پر پیش کیے جاتے ہیں اگر وہ اچھے عمل ہوتے ہیں تو وہ اُن سے خوش ہوتے ہیں اور اگر وہ عمل اچھے نہ ہوں تو وہ دعا کرتے ہیں اے اللہ ! ان کو ہدایت دینے سے پہلے ان پر موت طاری نہ کرنا جس طرح تو نے ہمیں ہدایت دی ہے۔(مسند احمد ج 3، ص 175، مطبوعہ دارالفکر بیروت ) (تبیان القرآن،ج2،ص470)
— (تبیان القرآن،ج2،ص470)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں