English translation is being prepared. The Urdu source is shown below. View in Urdu →
متفرق

کیا حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت کا انکار پورے قرآن کا انکار ہے؟

مختصر جواب
جی ہاں حضور نبی کریم ﷺکی نبوت قرآن مجید سے ثابت ہے اور قرآن کی ہر آیت پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔
حوالہ 1
آل عمران، آیت 21
اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّنَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ
ترجمہ
بیشک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور نبیوں کو ناحق شہید کرتے ہیں اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں دردناک عذاب کی خوش خبری سنادو۔ (ترجمہ کنزالعرفان)
— ترجمہ کنزالعرفان
تفسیر

رسول اللہ ﷺ کا انکار اللہ تعالیٰ کی تمام آیتوں کا انکار ہے ۔ اس آیت میں یہود کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکارکرتے ہیں حالانکہ یہود اللہ تعالیٰ کو ، فرشتوں کو ،آسمانی کتابوں کو، انبیاء سابقین کو ،قیامت ، حشر و نشر ،حساب و کتاب اور عذاب و ثواب کوماننے والے تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا انکار کیا اور تورات اور قرآن مجید میں آپ ﷺکی نبوت کے متعلق جو آیات ہیں ان کا انکار کیا اور کتاب اللہ کی ایک آیت کا انکار اس کی تمام آیتوں کے انکار کو مستلزم ہے ،کیونکہ جس خدا نے باقی آیات نازل کی ہیں سیدنا محمد رسول اللہﷺکی نبوت کے متعلق آیتیں بھی اس نے نازل کی ہیں اس لئے آپﷺ کی نبوت کا انکار کرنا تمام آیات الٰہیہ کا انکار کرنا ہے اس وجہ سے فرمایا یہ لوگ اللہ کی آیتوں کا کفر کرتے ہیں۔(تبیان القرآن،ج2،ص95)

— (تبیان القرآن،ج2،ص95)
نظرِ ثانی اور منظوری
محترمہ اسماء اصغر
عالمۂ دین، ایم فل
پرنسپل، فخر المشائخ قرآن اکیڈمی (رجسٹرڈ)، لاہور
اس جواب پر تجاویز
ای میل کریں