Is conveying reward (isal-e-thawab) to the Noble Prophet ﷺ or the Companions established?
اعتراض: وفات یافتہ افراد کے لیے عہد رسالت یا عہد خلفاء راشدین میں ایصال ثواب کی کوئی محفل منعقد ہوئی یا اجتماعی دعا یا دعا کی گئی جنگ یمامہ جیسے واقعات پیش آئے کیا کسی نے اپنا عمل دوسرے کو دیا ؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ میں سے کسی نے ایصال ثواب کیا ؟ ثبوت کیا ہے؟ الجواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے زیادہ قوی آپ کا قول ہے حتی کہ جب آپ کے قول اور عمل میں تعارض ہو تو آپ کے قول کے مقابلہ میں عمل کو ترک کر دیا جاتا ہے اور جب کہ بہ کثرت احادیث صحیحہ میں آپ کے صریح ارشادات موجود ہیں کہ فلاں کی طرف سے صدقہ کرو اور فلاں کی طرف سے حج کرو اور فلاں کی طرف سے روزے رھو تو پھر اس سلسلہ میں آپ کے اور صحابہ کے اعمال کو تلاش کرنے کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ نیز اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ عہد رسالت اور عہد صحابہ و تابعین میں مساجد میں صرف فرض نماز میں پڑھی جاتی تھیں، سنن اور نوافل صرف گھروں میں پڑھے جاتے تھے جب کہ اب مساجد میں سنن اور نوافل پڑھنے کا بھی رواج ہو گیا ہے۔ کیا مخالفین یہ بتا سکتے ہیں کہ اس رواج کا ثبوت کس حدیث میں ہے؟ نیز عہد رسالت میں اور عہد صحابہ و تابعین میں گھڑیوں کے حساب سے ایک معین وقت پر نمازیں نہیں پڑھی جاتیں تھیں جب مسلمان جمع ہو جاتے تھے نماز پڑھ لیتے تھے ہم سے تیجے اور چالیسویں کی تعین کا سوال کرنے والے مخالفین کیا بتا سکتے ہیں کہ گھڑیوں کے حساب سے معین وقت پر نماز پڑھنے کا ثبوت کس حدیث میں ہے؟ اور اگر آپ کے صریح ارشا ارشادات کے باوجود معترض کی تسکین آپ کے عمل سے ہو سکتی ہے تو ہم صحیح مسلم اور بہ کثرت دیگر احادیث کے حوالوں سے بتا چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگھوں والے مینڈھے کی قربانی کی اور یہ دعا کی : اے اللہ! اس کو حمد اور آل محمد اور امت محمد کی طرف سے قبول فرما۔ اور صحابہ کے عمل کا ثبوت یہ ہے کہ ہم سنن ابوداؤد اور دیگر کثیر احادیث کے حوالوں سے یہ بتا چکے ہیں کہ حضرت علی ہمیشہ دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے ایک اپنی طرف سے اور ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اس سوال کا جواب ہم گزشتہ صفحات میں غیر مقلد عالم نواب ب صدیق حسن خاں کی طرف سے اور ا کی طرف سے بھی لکھ چکے اور مذکور الصدر احادیث کا ” شرح صحیح مسلم، ج ۴، ص ۵۰۲ - ۵۰۱ میں بھی ذکر ہے۔ نواب صدیق حسن بھوپالی کی عبارت یہ ہے : اس سے یہ معلوم ہوا کہ اپنی عبادات کو دوسروں کے لیے ہدیہ پیش کرنا اس سے بہتر ہے کہ انسان ان عبادات کا اپنے لیے ذخیرہ کرئے یہی وجہ ہے کہ جس صحابی . نے کہا تھا کہ میں اپنی دعا کا تمام وقت آپ پر پر صلوٰۃ پڑھنے میں صرف کروں گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لیے کافی ہے یہ وہ صحابی ہیں جو بعد کے تمام لوگوں سے افضل ہیں ۔ پھر اس قول کا کیا جواز ہے کہ سلف صالحین نے فوت شدہ لوگوں کے لیے ایصال ثواب نہیں کیا؟ کیونکہ اس قسم کے ایصال ثواب کے لیے لوگوں کی شہادت کی ضرورت نہیں ہے اور اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ سلف صالحین نے ایصال ثواب نہیں کیا تھا تو اس سے ایصال ثواب میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ مستحب ہے واجب نہیں ہے اور ہمارے لیے ایصال ثواب کے جواز کی دلیل موجود ہے خواہ ہم سے پہلے کسی نے ایصال ثواب کیا ہو یا نہ ۔ (السراج الوہاج ج ۲ ص ۵۵) اور اعلیٰ حضرت امام رضا فاضل بریلوی کی عبارت یہ ہے: فاتحہ دلانا شریعت میں جائز ہے اور جس طرح مدارس اور خانقاہیں اور مسافر خانے بنائے جاتے ہیں اور سب مسلمان ان کو فعل ثواب سمجھتے ہیں، کیا کوئی ثبوت دے سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بنائے تھے یا بنوائے تھے یا کوئی ثبوت دے سکتا ہے کہ فاتحہ جس طرح اب دی جاتی ہے جس میں قرآن مجید اور کھانے دونوں کا ثواب میت کو پہنچاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور جب ممانعت کا ثبوت ثبوت نہیں دے ۔ ادے سکتا اور بے شک ہرگز نہیں دے سکتا تو جس چیز ۔ رسول نے منع نہ فرمایا دوسرا کہ منع کرے گا اپنے دل سے شریعت گھڑے گا۔ (فتاوی رضویہ ج ۴ ص ۲۶) نفلی عبادات کے لیے اپنے اجتہاد سے کوئی بھی وقت معین کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ تین عرفی ہوتی ہے، تعیین شرعی کی طرح یہ ہوتی نہیں، جسے شارع نے مقرر کیا ہے اور مکلف اس کا پابند ہے اور اسی پر اجر کامل موقوف ہے۔ دیکھئے از روئے شرع ، نفلی روزہ مردن رکھا جا سکتا ہے، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ پیر کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث: ۱۱۶۲) اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کے دن مسجد قباء کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے تھے اور آپ کی اتباع میں حضرت عبداللہ بن عمر بھی ہر ہفتے کو مسجد قباء جایا کرتے تھے جب کہ مسجد قباء کی زیارت ایک نفلی عبادت ہے جسے ہر روز کیا جا سکتا ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفتے کے دن کو اس کی زیارت کے لیے خاص کر لیا تھا، چنانچہ حدیث میں ہے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے کے دن مسجد قباء پیدل یا سواری پر جایا کرتے تھے اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر بھی ہر ہفتہ کے دن مسجد قباء کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ۱۱۹۳) (تبیان القرآن،ج11،ص558،فرید بک سٹال لاہور،غلام رسول سعیدیؒ)
Other phrasings of this question
- Is isal-e-thawab to the Prophet ﷺ permissible?seo
- Qur'anic and hadithic proofs for isal-e-thawabeducational