Was the Noble Prophet ﷺ given knowledge of all things in the heavens and the earth?
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزوں کا علم دیا گیا ۔
اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم کلی عطا فر مایا اور تمام حقائق اشیاء پر آپ کو مطلع فرمادیا کیونکہ بعض احادیث میں یہ الفاظ ہیں : پس میں نے آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزوں کو جان لیا ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث:۳۲۳۳) اور بعض میں یہ الفاظ ہیں: مجھے مشرق اور مغرب کے درمیان کی تمام چیزوں کا علم ہو گیا ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث: ۳۲۳۴) اور بعض میں یہ الفاظ ہیں: پس ہر چیز میرے لیے منکشف ہو گی اور میں نے ہر چیز کو جان لیا۔
(سنن الترمذی رقم الحدیث: 3235)
وجہ استدلال یہ ہے کہ پہلی دو حدیثوں میں لفظ ماہے“ فعلمت ما فی السموت وما في الارض “ اور فعلمت ما بين المشرق والمغرب “ اور تیسری حدیث میں لفظ کل“ ہے( فتجلى لى كل شيء و عرفت ) اور ما “ اور ”کل “ کے الفاظ کی وضع عموم کے لیے کی گئی ہے اور ان کی عموم پر دلالت قطعی ہوتی ہے ۔ اسی طرح قرآن مجید کی اس آیت میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کلی اور علم کے عموم پر دلیل ہے:
عَلَمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ (النساء : 113)
آپ کو ان تمام چیزوں کا علم دے دیا جن کو آپ (پہلے) نہیں جانتے تھے۔
اس آیت میں بھی لفظ'' ما“ا ہے اور ما" کی عموم پر قطعی دلالت ہے مخالفین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کے عموم پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آپ کو علم کلی حاصل ہوتا تو پھر جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی تو آپ فوراً اس کا رد کر دیتے، حالانکہ جب تک وحی نازل نہیں ہوئی تقریبا ایک ماہ تک آپ اس معاملہ میں پریشان اور عمگین رہے اسی طرح جب ایک سفر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گم ہو گیا تو آپ اس کو تلاش نہ کراتے اور فورا بتا دیتے کہ ہار فلاں جگہ پڑا ہوا ہے۔
ان کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام واقعات اخبار احاد سے ثابت ہیں جو ظنی ہیں اور ہمارا استدلال اس آیت سے ہے جو قطعی ہے اور اس آیت میں اور جن احادیث سے ہم نے استدلال کیا ہے ان
میں لفظ ما ہے اور اس کا عموم قطعی ہے اور قطعی کے خلاف ظنی ہے معارضہ کرنا باطل ہے۔
Other phrasings of this question
- Difference between inherent and bestowed knowledge of the unseeneducational